ابنا: صدارتي انتخابات ميں تيرہ اميدوار ميدان ميں ہيں تاہم اصلي مقابلہ اسلام نواز اميدوار عبد المنعم ابو الفتوح اور عرب ليگ کے سابق سکريٹري جنرل عمرو موسي کے درميان ہےـ ابو الفتح نے صدارتي انتخابات ميں آزاد اميداوار کي حيثيت سے شرکت کا اعلان کيا ہے ليکن متعدد سياسي جماعتوں نے ان کي حمايت کا اعلان کيا ہےـ مصر کي تين بڑي جماعتوں نے کہا ہے کہ وہ عبد المنعم ابو الفتوح کي حمايت کريں گي جن ميں سلفي تنطيم اور اس کے سياسي ونگ يعني حزب النور، اسي طرح الوسط اور اخوان المسلمين شامل ہيں ـ سروے رپورٹوں کے مطابق ملک کے پچپن فيصدي رائے دہندگان ابو الفتوح کي فتح کو يقيني مان رہے ہيں ـ اسلام نواز اميدوار کي حمايت کچھ اور جماعتوں نے بھي کي ہےـ عبد المنعم ابو الفتوح نے اپني انتخابي مہم ميں کہا ہے کہ فلسطين کا مسئلہ مصر کے آئندہ صدارتي انتخابات کا سب سے اہم مسئلہ ہےـ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات ميں انہيں کاميابي ملي تو وہ مصري عوام کي امنگوں پر توجہ ديں گے اور بيروني ممالک کي پاليسي کے پابند نہيں رہيں گےـ محمد مرسي کو بھي ان کا ہم حريف سمجھا جاتا ہے جو خيرت شاطر کو نااہل قرار دے ديئے جانے کے بعد ترقي و انصاف پارٹي کي جانب سے ميدان ميں اترے ہيں ـ يہ جماعت، اخوان المسلمين کا سياسي ونگ ہےـ اسلامي جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ تمام اميدوار کي حمايت کريں گے تاہم سابق حسني مبارک کي سرکار کا حصہ رہ چکے عمرو موسي جيسے اميدوار ان کي اس حمايت سے محروم رہيں گےـ مختلف عوامي طبقات، سياسي کارکنوں اور سياسي جماعتوں نے حکمراں فوجي کانسل سے پرزور مطالبہ کيا ہے کہ تيس جون تک اقتدار سويلين حکومت کو منتقل کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کرے اور انتخابات کے انعقاد ميں شفافيت کا خيال رکھےــ......./169
10 مئی 2012 - 19:30
News ID: 314440
مصر ميں تين عشروں پر محيط حسني مبارک کي آمرانہ حکومت کے بعد آئندہ تيئيس اور چوبيس مئي کو صدارتي انتخابات ہوں گےـ